Badin: Social Media Per Blackmailing Se Larki Ne Suicide Kar Li
بدین میں سوشل میڈیا پر بلیک میلنگ سے تنگ آکر لڑکی نے زہر پی کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔
متوفی لڑکی کے ورثاء کا کہنا ہے ان کی بیٹی کی ایک تحریر سے بلیک میلنگ کا انکشاف ہوا، لڑکی کو ایک نوجوان اور اس کے ساتھی ایڈٹ شدہ تصاویر سے بلیک میل کررہے تھے۔
ورثا کا مزید کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو بلیک میل کرنے والوں نے 50 ہزار روپے بھی وصول کیے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے شکایت درج کرلی گئی ہے تاہم ملزمان فرار ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا پر کسی کو بلیک میل کرنا قابل سزا جرم ہے جس کے لیے ملک میں سائبر کرائم کا قانون بھی لاگو ہے جس کے تحت ملزمان کو سزائیں بھی سنائی جاچکی ہیں۔
سائبر کرائم کی ایک عام تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ہر ایسی سرگرمی جس میں کمپیوٹرز یا نیٹ ورکس کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کسی کو ہدف یا مجرمانہ سرگرمیاں کی جائیں یا کمپیوٹر کی دنیا سے جڑی ایسی سرگرمیاں جو یا تو غیرقانونی ہو یا انہیں مخصوص فریقین کی جانب سے خلاف قانون سمجھا جائے اور ان میں عالمی الیکٹرونک نیٹ ورکس کو استعمال کیا جائے انہیں سائبر کرائم سمجھا جائے گا۔
Source



18-year-old (student) girl, #AneelaParmar Commits Suicide Over Social Media Blackmailing, #Badin, #Sindh ! She wrote a letter before her suicide revealed that blackmailers had sent her edited pictures to her fiancé. @BBhuttoZardari @BakhtawarBZ @NaziaMemon01 pic.twitter.com/D00ZJNnSiA
— Rizwan Ali (@RizwanHajano12) May 20, 2019
Eye-opening Revelations in confessional statement of terrorist injured in Rangers camp attack in Karachi
Oye Saman Uthao, Ab Nhn Chalay Ga - Maryam Nawaz warns against abuse of authority in PERA
14 Prisoners escaped Adiala Jail prison van in dramatic way
Iran's retaliation strikes on US installations in Bahrain and Kuwait
Saudi Aramco helicopter crash kills 14 on board in Ras Tanura
Six killed in shooting in northern German town












