Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Video: A family nearly escapes before Colombia earthquake shakes their house in front of their eyes Video: A family nearly escapes before Colombia earthquake shakes their house in front of their eyes Lahore’s ‘She Drives’ App: Women drive to women passengers Lahore’s ‘She Drives’ App: Women drive to women passengers Yadgar e Fatah Ceremony - PAF spectacular air show in Islamabad Yadgar e Fatah Ceremony - PAF spectacular air show in Islamabad Victory in Marka-e-Haq: President, PM and Field Marshal inaugurate victory monument Victory in Marka-e-Haq: President, PM and Field Marshal inaugurate victory monument Peshawar: Woman arrested for throwing acid on a man for refusing to marry her Peshawar: Woman arrested for throwing acid on a man for refusing to marry her China rejects India’s move to rename Arunachal Pradesh China rejects India’s move to rename Arunachal Pradesh

Molvi Refused To Lead Funeral Prayer of A Person Who Died of Coronavirus, Then Doctor Lead The Prayer





خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں مولوی کے کرونا وائرس سے انتقال کرجانے والے شخص کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار پر ڈاکٹر نے خود میت کو غسل دے کر جنازہ پڑھایا اور تدفین بھی کردی۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق ضلع شانگلہ کی تحصیل بشام میں تعینات ڈاکٹر حافظ ثنا اللہ سرکاری سپتال میں کررونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے علاج پر مامور ہیں۔

ڈاکٹرحافظ ثنا اللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ کرونا وائرس سے فوت ہونے والا شخص دور دراز علاقے سے آیا تھا۔ جب ایک مقامی مولوی صاحب سے رابطہ کیا کہ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے خوف آتا ہے۔ کرونا وائرس کے مریض کی جنازہ نہیں پڑھا سکتا۔
انہوں نے مولوی صاحب کا نام نہیں بتایا مگر مولوی صاحب نے انہیں مشورہ دیا کہ آپ خود پڑھا دیں۔

ڈاکٹر حافظ ثنا اللہ نے بتایا کہ وہ خود حافظ قرآن ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ میت کو غسل کیسے دیا جاتا ہے اور نماز جنازہ کیسے پڑھائی جاتی ہے۔ انہوں نے پھر میت کو غسل دیا اور نماز جنازہ بھی پڑھائی جس میں ٹی ایم اے اور اسپتال کا عملہ شریک ہوا۔
ڈاکٹر حافظ ثنا اللہ نے بتایا کہ انہوں نے یونیسف کے زیر انتظام ایک تربیت مکمل کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایسے شخص کو غسل کیسے دیا جا سکتا ہے اور وہ تمام احتیاطی تدابیر انہوں نے اختیار کی تھیں۔

حافظ ثنا اللہ نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے غسل دینے کے بعد میت کو پلاسٹک میں بند کر کے کفن چڑھایا اور پھر میت کو تابوت میں رکھا۔ نماز جنازہ کے بعد میت کو قبر میں اتارنے تک کا کام بھی انہوں نے خود سرانجام دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ سب اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے۔



Source



Comments...