Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Alleged audio leak of Mishal Yousufzai & Salman Akram Raja surfaced online Alleged audio leak of Mishal Yousufzai & Salman Akram Raja surfaced online Indian singer Sonu Nigam's viral video as he sings Mohammad Rafi's song during surgery Indian singer Sonu Nigam's viral video as he sings Mohammad Rafi's song during surgery Imran Khan's important message to old friend Akbar S Babar from jail Imran Khan's important message to old friend Akbar S Babar from jail Shocking Footages: Buildings sway and shake after massive 7.4 magnitude Earthquake hits Colombia Shocking Footages: Buildings sway and shake after massive 7.4 magnitude Earthquake hits Colombia Journalist's rude tone while questioning IG Sindh Javed Alam Odho about Mir Raza case Journalist's rude tone while questioning IG Sindh Javed Alam Odho about Mir Raza case Qadir Mandokhail & Huzefa Rehman heated clash on Live TV Qadir Mandokhail & Huzefa Rehman heated clash on Live TV

Britain Declared The Residence of Pakistani Scientist Dr. Abus Salam in London As National Heritage




برطانیہ میں ڈاکٹر عبدالسلام کا گھر قومی ورثہ قرار

برطانوی حکومت نے الیکٹروویک یونیفکیشن تھیوری میں خدمات سر انجام دینے پر نوبیل ایوارڈ کا اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی، ڈاکٹر عبدالسلام کے برطانیہ میں واقع گھر کو قومی ورثہ قرار دے دیا ہے۔

وہ امپیر یئل کالج لندن میں تھیوریٹکل فزکس کے بانی تھے اور 1957 سے لے کر 1996 میں انتقال کے وقت تک وہ اسی گھر میں رہائش پذیر تھے۔

حال میں برطانوی محکمہ ورثہ نے ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر کے باہر نصب کی جانے والی نیلے رنگ کی تختی کی رونمائی کی ہے۔

اس تختی پر لکھا ہے کہ 'عبدالسلام 1996-1926، ماہر طبیعات، نوبیل انعام یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں سائنس کے فاتح تھے'۔

پروفیسر مائیکل ڈف، جنہوں نے پروفیسر عبدالسلام کی سربراہی میں 1972 میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی تھی، انہوں نے بھی ان کی خدمات کے اس اعتراف پر اپنے استاد کی تعریف کی۔

انہوں نے کہا کہ پٹنی میں اس مکان پر ایک نیلی تختی ڈاکٹر عبدالسلام کو ایک قابل فخر خراج تحسین ہے جہاں وہ 40 سال تک مقیم رہے۔

پروفیسر مائیکل ڈف نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالسلام نہ صرف بیسویں صدی کے ایک بہترین سائنسدان تھے، جنہوں نے فطرت کی چار بنیادی قوتوں میں سے دو کو متحد کیا بلکہ انہوں نے ترقی پذیر دنیا میں سائنس اور تعلیم کی بہتری کے لیے اپنی زندگی بھی وقف کردی تھی۔

ان کے ایک اور طالب علم پروفیسر ایان والسملے، جو اب امپیریئل کے ایک پروٹوسٹ ہیں انہوں نے طبعیات کے مضمون میں ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات کو شاندار قرار دیا۔

انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام کی سائنس سے وابستگی کو گہرا قرار دیا جس کے باعث ٹریسٹی میں نظریاتی طبعیات کے بین الاقوامی مرکز کی بنیاد رکھی گئی ہے، جس کا مقصد ترقی پذیر دنیا میں سائنس کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔



Source



Comments...