Ministry of Human Rights Takes Notice of The Expulsion of Students From the University
وزارت انسانی حقوق کا پروپوز کرنے والے لڑکا اور لڑکی کو یونیورسٹی سے نکالنے کا نوٹس
اسلام آباد: وفاقی وزارت انسانی حقوق نے لاہور یونیورسٹی میں لڑکی کے پروپوز کرنے کے بعد طالب علم اور طالبہ کو فارغ کرنے کا نوٹس لے لیا۔
وفاقی پارلیمانی سیکریٹری انسانی حقوق لال چند مالہی نے گورنر پنجاب اور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو خط لکھ کر دونوں طلباء کو دوبارہ داخلہ دینے کا مطالبہ کر دیا۔
پارلیمانی سیکرٹری انسانی حقوق نے کہا کہ دو طلبہ کی جانب سے ایک دوسرے کو پروپوز کرنا ناجائز کام نہیں، جوڑے کو فارغ کرنے سے پہلے ان کا موقف لینا ضروری تھا، اخلاقی اقدار کو کس صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا مگر اتنا سخت ایکشن لینے کے اثرات اچھے نہیں ہونگے، یونیورسٹی کے اس شدید ردعمل کی وجہ سے دونوں طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
لال چند مالہی نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے طلباء کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بجائے یونیورسٹی میں مشاورتی سنٹرز کھولنے چاہئیں، اسٹوڈنٹس کو یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے، لہذا داخلہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔
Source

Former Army Chief General (R) Qamar Javed Bajwa Seriously Injured After Falling in Bathroom at Home
Aleema Khan’s views on Salman Safdar's meeting with Imran Khan in jail
Junaid Akbar separates himself from PTI's parliamentary party
PCB has won Bangladesh too in a diplomatic way - Indian journalist Vikrant Gupta
Imran Khan's lawyer Salman Safdar talks to media after submitting report in Supreme Court
Sindh Assembly rejects resolution seeking ban on the sale of alcohol











