Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
New York Times exposes India’s dominance in cricket New York Times exposes India’s dominance in cricket Aleema Khan’s views on Salman Safdar's meeting with Imran Khan in jail Aleema Khan’s views on Salman Safdar's meeting with Imran Khan in jail Former Army Chief General (R) Qamar Javed Bajwa Seriously Injured After Falling in Bathroom at Home Former Army Chief General (R) Qamar Javed Bajwa Seriously Injured After Falling in Bathroom at Home Court indicts Ducky Bhai, wife Aroob Jatoi in gambling app case Court indicts Ducky Bhai, wife Aroob Jatoi in gambling app case Junaid Akbar separates himself from PTI's parliamentary party Junaid Akbar separates himself from PTI's parliamentary party Why China is Banning Hidden Car Door Handles Popularised by Tesla Why China is Banning Hidden Car Door Handles Popularised by Tesla

Jang / Geo Group Issues Policy Statement Regarding Removal of Hamid Mir




جنگ ، جیو گروپ کا موقف

سول سوسائٹی اورمیڈیا حقوق کی تنظیموں کی جانب سے صحافی اسد طور پر نامعلوم افراد کے حملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس میں جیو کے سینئر اینکر حامد میر نے تقریر کی جسکے نتیجے میں معاشرے کے مختلف حلقوں کا شدید ردعمل سامنے آیا۔

ہم ایڈیٹوریل کمیٹی اور وکلاء کے ساتھ اس صورتحال کا جائزہ لیں گے کہ پالیسی یا قانون کی کوئی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔

اس دوران کیپٹل ٹاک کی میزبانی عارضی میزبان کے سپرد کی جارہی ہے۔ ہم اپنے ناظرین اور قارئین کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ملک میں کسی بھی دوسری میڈیا آرگنائزیشن کے مقابلے میں کرپشن، توہین رسالت اور غداری جیسے سیکڑوں جھوٹے الزامات پر جنگ جیو گروپ کو بند کیا گیا، ہمارے صحافیوں کو مارا پیٹا گیا، اپنے ناظرین اور قارئین کو حالات سے باخبر رکھنے میں آرگنائزیشن کو دس ارب روپے سے زائد کا مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

تاہم گروپ اور اس کے ایڈیٹرز کے لیے مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار سے باہر کی گئی تقریر یا تحریر کے مواد کی ذمہ داری کیسے لیں، جو واقعتاً ایڈیٹوریل ٹیم نے دیکھا ہو اور نہ ہی اس کی منظوری دی ہو۔

حامد میر اور دوسرے صحافی اپنے ساتھی صحافی پر حملے کے حوالے سے جس غم و غصے یا مایوسی کا شکار ہوئے اس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، تاہم صحافت اور صحافیوں کے تحفظ کیلئے بہتر طریقے اور ذرائع موجود ہیں۔

پاکستان میں صحافیوں کی بہت بڑی تعداد عوام کے جاننے کے حق کے لیے لڑتے ہوئے جانوں اور آزادی سے محروم ہوئی۔

پی ایف یو جے، ایچ آر سی پی، اے پی این ایس سی، اے ایم ایم ای ڈی اور سی پی این ای اس کے ساتھ ساتھ میڈیا حقوق کی عالمی تنظیمیں حکومت سے مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ وہ صحافیوں کو ایسے اقدامات کے خلاف تحفظ دیا جائے مگر اب تک کسی حکومت نے ایسا نہیں کیا۔



Source





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...