17 Years old boy attacked in Chakwal after being accused of blasphemy

چکوال: کمسن بچے پر توہین رسالت کا الزام لگا کر چُھریوں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا
پنجاب کے ضلع چکوال کی ایک مقامی مسجد میں کمسن بچے (جس کا ذہنی توازن درست نہیں ہے) پر ایک مقامی نوجوان کی جانب سے توہین رسالت کا الزام لگا کر چُھریوں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا۔
صحافی احمد عدیل سرفراز کے مطابق 17 سالہ مجاہد نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جونہی مسجد کے داخلی دروازے پر پہنچا تو ملزم مہتاب نے 17 سالہ بچے پر چَھری سے حملہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق موقع پر موجود درجنوں لوگوں میں سے ایک بھی شخص بچے کی مدد کو آگے نہیں آیا۔ کمسن بچے جس کا نام مجاہد بتایا جارہا ہے پر حملہ ہو جانے کے بعد ملزم مہتاب نے مقامی پولیس اسٹیشن پر فون کر کے خود واقعہ رپورٹ کیا، جس کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو حراست میں لے لیا۔
اہلِ علاقہ کیمطابق کمسن مجاہد کا ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ اس وقت مجاہد راولپنڈی کے ایک اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔
واقعہ چکوال شہر کے محلہ سرگوجرہ غربی کی مسجد میں رونما ہوا ہے۔
چکوال: مقامی مسجد میں ایک کمسن بچے پر توہین رسالت کا الزام لگا کر چُھریوں کے وار کر کے زخمی کر دیا گیا۔ زرائع کیمطابق 17 سالہ مجاہد نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد جونہی مسجد کے داخلی دروازے پر پہنچا تو ملزم مہتاب نے 17 سالہ بچے پر چَھری سے حملہ کر دیا۔
— Ahmed Adeel Sarfraz (@AhmedASarfraz) February 4, 2022
Pakistan Air Force officer martyred while saving a woman in Islamabad, How it happened?
Military vows all necessary measures to secure Pakistan's water share amid India tensions - Corps commander conference
Foreign Women Case: What is the purpose of discussing this incident on TV? Ikhtiar Wali debates with the anchor
CCTV footage of suspect involved in the murder of group captain Asim Tariq
Who is the BOSS in Lahore women assault case? Mansoor Ali Khan shared storyline of the incident
Foreign Girls Assault Case: Listen what DIG Faisal Kamran said about question of his resignation?








