There is no place for Muslim graves in Berlin (Germany)

جرمنی کے شہر برلن میں مسلمانوں کے لیے قبر کی جگہ ملنا مشکل
جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد رہائش پذیر ہے، لیکن وہاں مسلمانوں کو دفنانے کے لیے جگہ کم پڑتی جا رہی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق جنازہ گاہ ’مرکز‘ کے منتظم ایسیکلی کارایل کا کہنا ہے کہ ’مسلمانوں کو دفنانے کے لیے قبر ملنا مشکل ہوچکا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’برلن میں قبر کے لیے جگہ ڈھونڈنا 2008 سے ایک مسئلہ ہے، لیکن گذشتہ چند ماہ کے دوران اس مسئلے میں شدت آئی ہے۔ کوئی جگہ باقی نہیں ہے۔ اچانک برلن میں مسلمانوں کو دفنانا ناممکن ہوچکا ہے۔‘
ویب ڈیزائنر کاتجا نیپرٹ نے بتایا کہ 10 برس قبل جب وہ رضاکار کے طور پر کام کر رہی تھیں تو ان کا اس مسئلے کے ساتھ واسطہ پڑا۔ ’اپنے پیاروں کے لیے قبر ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے۔ شہر میں قبر کی جگہ نہ ملنا بہت سارے مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔‘
کاتجا نیپرٹ نے اس سلسلے میں ایک مہم بھی شروع کر رکھی ہے۔ ان کو کچھ کامیابی حاصل ہوئی ہے، لیکن پھر بھی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔
کاتجا نیپرٹ اور ان کے ساتھیوں نے علامتی تابوت اٹھا کر گلیوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو ایک ہزار قبروں کے لیے قبرستان بنانے کی جگہ ملی، لیکن وہ تین برس بعد کم پڑ گئی۔
برلن کی انتظامیہ کے مطابق شہر میں مسلمانوں کے لیے چھ قبرستان ہیں، لیکن اس وقت صرف ایک قبرستان میں جگہ باقی ہے، تاہم وہ بہت دور واقع ہے۔
ایسیکلی کارایل انتظامیہ کی طرف سے مایوس نظر آتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ 10 برس سے ہر کوئی وعدے کر رہا ہے، لیکن قبرستان کی جگہ مختص کرنے کے لیے کوئی عمل درآمد نہیں ہوا۔
Source
I am not asking you - Bilawal Bhutto scolds Shazia Marri during discussion
Before leaving China, the American crew threw away everything given to them by Chinese authorities
According to our information, Mohsin Naqvi has taken an important message to Iran - Azaz Syed
Anmol Pinky case investigation disclosed new information
Is UAE kicking out Pakistanis? Pakistan's foreign office's response
Why Hassan Nisar called Anmol Pinky is a genius?










