Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
I am not asking you - Bilawal Bhutto scolds Shazia Marri during discussion I am not asking you - Bilawal Bhutto scolds Shazia Marri during discussion Before leaving China, the American crew threw away everything given to them by Chinese authorities Before leaving China, the American crew threw away everything given to them by Chinese authorities According to our information, Mohsin Naqvi has taken an important message to Iran - Azaz Syed According to our information, Mohsin Naqvi has taken an important message to Iran - Azaz Syed Anmol Pinky case investigation disclosed new information Anmol Pinky case investigation disclosed new information Is UAE kicking out Pakistanis? Pakistan's foreign office's response Is UAE kicking out Pakistanis? Pakistan's foreign office's response Why Hassan Nisar called Anmol Pinky is a genius? Why Hassan Nisar called Anmol Pinky is a genius?

US decides to increase pressure on Taliban after Taliban impose burqa on Afghan women



خواتین کے لیے مکمل پردہ، امریکہ کا طالبان پر دباؤ بڑھانے کا عندیہ

امریکہ نے کہا ہے کہ اگر طالبان نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو محدود کرنے سے متعلق کیے گئے حالیہ فیصلے واپس نہیں لیے تو ان پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق منگل کو امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ’ہم نے اس معاملے پر براہ راست طالبان سے رابطہ کیا ہے۔‘
امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سنیچر کو افغان طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخونزادہ نے خواتین کے لیے مکمل پردے کو لازمی قرار دیا تھا۔

نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ اگر طالبان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو محدود کرنے سے متعلق اپنے اقدامات واپس نہیں لیتے تو ان پر دباؤ بڑھائیں گے۔
’ہم نے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کی ہے۔ ہم طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کرتے رہیں گے کہ وہ ان میں سے کچھ فیصلے واپس لیں اور جو وعدے انہوں نے کیے ان پر عمل کیا جائیں۔‘
انہوں نے طالبان کے خلاف ممکنہ اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔
دوسری جانب سے کابل کے شہر نو میں خواتین کی جانب سے مکمل پردے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا ہے۔ سکارف پہنے خواتین نے احتجاجی پوسٹرز اٹھائے ہوئے تھے۔

افغان طالبان کی جانب سے خواتین کے لیے مکمل پردے کے فیصلے پر عالمی سطح پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔
ہبت اللہ اخونزادہ کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ خواتین خود کو سر سے پاؤں تک ڈھانپنے والا برقع پہنیں جو روایتی اور باعزت طریقہ ہے۔
طالبان کے گذشتہ دور حکومت میں بھی خواتین پر سخت پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
سنیچر کو جاری حکم نامے میں خواتین کے لیے نیلے ٹوپی والے برقعے کو مناسب قرار دیا گیا ہے۔
طالبان کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری نے جو شرائط پیش کی تھیں ان میں لڑکیوں کی تعلیم کا اہم مطالبہ بھی شامل تھا۔

اگست 2021 میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے انخلا کے بعد طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالا تھا۔
بین الاقوامی برادری کے شرائط کے باوجود طالبان نے خواتین کو کام سے روک دیا ہے اور ان کو محرم کے بغیر سفر کرنے کی بھی اجازت نہیں۔
اس کے علاوہ زیادہ تر لڑکیوں کو ساتویں جماعت سے آگے سکول جانے سے روکا گیا ہے۔
امریکہ اور دیگر ممالک نے پہلے ہی سے ترقیاتی امدادی پروگراموں میں کٹوتی کی ہے اور کابل پر قبضے کے بعد بینکنگ کے نظام پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں۔


Source



Comments...