Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Pakistan Air Force officer martyred while saving a woman in Islamabad, How it happened? Pakistan Air Force officer martyred while saving a woman in Islamabad, How it happened? Who is the BOSS in Lahore women assault case? Mansoor Ali Khan shared storyline of the incident Who is the BOSS in Lahore women assault case? Mansoor Ali Khan shared storyline of the incident Foreign Women Case: What is the purpose of discussing this incident on TV? Ikhtiar Wali debates with the anchor Foreign Women Case: What is the purpose of discussing this incident on TV? Ikhtiar Wali debates with the anchor Foreign Girls Assault Case: Listen what DIG Faisal Kamran said about question of his resignation? Foreign Girls Assault Case: Listen what DIG Faisal Kamran said about question of his resignation? Lahore assault case: Foreign women make startling revelations in court statements Lahore assault case: Foreign women make startling revelations in court statements Indian PM Modi's hypocrisy exposed as he skips Iranian Supreme Leader's funeral Indian PM Modi's hypocrisy exposed as he skips Iranian Supreme Leader's funeral

Umar Cheema, Azaz Syed & Ahmad Noorani's tweets on Matiullah Jan vs Sami Ibrahim & Imran Riaz Clash


عمر چیمہ، اعزاز سید اور احمد نورانی نے عدالت کے باہر سمیع ابراہیم اور عمران ریاض کی مطیع اللہ جان کے ساتھ بدتہذیبی پر سخت مذمت کا اظہار کیا۔ عمر چیمہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا "یہ لوگ صحافت کے نام پر طمانچہ ہیں، انکی آج والی گھٹیا حرکت سے اندازہ ہوا کہ ایماندار ہونا ضروری نہیں لوگ تذلیل کیلئے کوئی بھی الزام لگا سکتے ہیں"۔۔

صحافی احمد نورانی نے ٹویٹ کیا "اپنی ذلت اورکرپشن چھپانے، اپنی اناء کی تسکین اوراپنی طرف سےایک صحافی کی تذلیل کیلیےکہاکہ تمہارا ریپ ہواہے۔ قہقےمار مارکےہنسے۔

جھوٹ سچ چھوڑیں، ان غلیظ دماغوں کیلیے ریپ ایک مذاق کی بات ہے۔

ایسے مجرموں کاکوئی حق نہیں کہ وہ کسی بھی ایشو پر کوئی بات کریں اور نہ کرنےدی جانی چاہیے۔"
۔

احمد نورنی نے مزید ٹویٹ کیا "ریپ کو مذاق سمجھنے والے مجرموں کو تو عام لوگوں کے درمیان آنے ہی نہیں دینا چاہیے۔ ایسے لوگوں کا تو کوئی محفوظ ٹھکانا ہی نہیں ہونا چاہیے۔
صرف پاکستان جیسے ملکوں میں ہی عدالتیں ایسے غلیظ مجرمان کو تحفظ فراہم کرتی ہیں۔

ان کی شکائت یہ ہے کہ مطیع اللہ جان ان کے معاملات کے حوالے سے تلخ سوالات کرتا ہے۔ اگر مطیع اللہ سخت سوال کرتے ہیں تو آپ جواب دیں یا مطیع اللہ کے معاملات پر ان پر ان سے بھی تلخ سوال کر لیں۔ غلیظ اور جھوٹے الزامات اور تھڑے کی زبان کے ذریعے آپ نے اسلام آبادہائیکورٹ کوہی شرمندہ کیاہے۔

کسی بھی صحافی کی رپورٹنگ یا تجزیہ چاہے کسی سیاسی جماعت کے حق میں جائے یا خلاف، وہ صحافی ہے اور صحافی تنظیموں کو کسی بھی صحافی کے خلاف کسی بھی ناجائز حکومتی کاروائی کے خلاف کھڑے ہونا چاہیے۔ مگر ایسے غلیظ کرداروں کو صحافی کہنے یا سمجھنے والے خود اپنا مذاق بنوا رہے ہوتے ہیں۔

شاید اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اب اپنی سوچ پر نظرثانی کریں اور اپنے آپ کو قائل کریں کہ وہ بھی انسان ہیں اور غلط بھی سوچ سکتے ہیں اور ایسے غلیظ کرداروں کو ایک عدالت کو اپنے مزموم مقاصد کیلیے استعمال نہ ہونے دیں۔ ہر چیز کی ایک حد بھی ہوتی ہے۔"
۔

صحافی اعزاز سید نے لکھا "مستقبل کا حال خدا ہی جانتا ہے مگر میرا دل کہتا ہے آپ نوٹ فرما لیں عمران ریاض ، سمیع ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کو ایک ایماندار صحافی سے بدتمیزی کی سزا پوری قوم کے سامنے ملے گی یہ ضرور رسوا ہونگے ۔

پوری ایمانداری سے سمجھتا ہوں عمران ریاض ،سمیع ابراہیم سمیت صحافت کی دنیا کے نام نہاد بڑے بڑے نام مطیع اللہ جان کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں -۔"
۔












Comments...