Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
According to our information, Mohsin Naqvi has taken an important message to Iran - Azaz Syed According to our information, Mohsin Naqvi has taken an important message to Iran - Azaz Syed Anmol Pinky case investigation disclosed new information Anmol Pinky case investigation disclosed new information Exclusive Video: Two jets crashed midair during air show in America Exclusive Video: Two jets crashed midair during air show in America Is UAE kicking out Pakistanis? Pakistan's foreign office's response Is UAE kicking out Pakistanis? Pakistan's foreign office's response Why Hassan Nisar called Anmol Pinky is a genius? Why Hassan Nisar called Anmol Pinky is a genius? Exclusive footage of drug dealer Pinky being presented in court Exclusive footage of drug dealer Pinky being presented in court

Outrage over the death of Iranian women after being arrested by Iranian police



ایران: پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد نوجوان خاتون کی موت پر غم و غصہ

مبینہ طور پر سر ڈھانپنے کے حوالے سے سخت قوانین کی پابندی نہ کرنے کے الزام میں اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والی ایک 22 سالہ ایرانی خاتون ہلاک ہو گئی ہیں۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ مھسا امینی کو پولیس وین کے اندر اس وقت مارا پیٹا گیا جب انھیں منگل کو تہران سے حراست میں لیا جا رہا تھا۔

پولیس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امینی کو ’اچانک دل کا عارضہ لاحق ہو گیا تھا۔‘

حالیہ ہفتوں میں ایران میں حکام کی جانب سے خواتین کے خلاف مظالم کی خبروں کے سلسلے میں یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔

امینی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ ایک صحت مند نوجوان خاتون تھیں جنہیں کوئی بیماری نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے انھیں اچانک دل کی تکلیف ہو جاتی۔

تاہم، انھیں بتایا گیا کہ امینی کو گرفتاری کے چند گھنٹے بعد ہسپتال لے جایا گیا تھا اور اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ جمعہ کو مرنے سے پہلے کوما میں تھیں۔

تہران پولیس نے کہا کہ امینی کو حجاب کے بارے میں ’جواز اور تعلیم‘ دینے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا جو کہ تمام خواتین کے لیے پہننا لازمی ہے۔

ان کی موت ایسے وقت ہوئی ہے جب خواتین کے خلاف جابرانہ کارروائیوں کی خبروں میں اضافہ ہو رہا ہے، ان خبروں کے مطابق اسلامی لباس کے ضابطے کی تعمیل نہ کرنے والی خواتین کو سرکاری دفاتر اور بینکوں میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔

بہت سے ایرانی بشمول حکومت کے حامی افراد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اخلاقی پولیس ہونے پر ہی اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں، جسے ’گشت ارشاد‘ یعنی اصلاحی گشت کا نام دیا گیا ہے اور ہیش ٹیگ استعمال کر رہے ہیں جن کا ترجمہ مرڈر پٹرولز ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ افسران خواتین کو حراست میں لے رہے ہیں انھیں زمین پر گھسیٹ رہے ہیں اور زبردستی انھیں باہر لے جا رہے ہیں۔

بہت سے صارفین نے ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای پر براہ راست الزام عائد کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی ایک پرانی تقریر دوبارہ شیئر کی جا رہی ہے جس میں وہ اخلاقی پولیس کے کردار کو درست قرار دیتے ہیں اور اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اسلامی اصول کے تحت خواتین کو اسلامی لباس کوڈ پر عمل کرنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔

تازہ ترین واقعے نے ایران کے نوجوان اور معاشرے کے ایک بڑے حصے اور اس کے بنیاد پرست حکمرانوں کے درمیان تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسی دراڑ جس مٹانا اب پہلے سے زیادہ مشکل نظر آتا ہے۔


Source: BBC Urdu



Comments...