Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Minahil Malik's video message after her private videos leaked on social media Minahil Malik's video message after her private videos leaked on social media Ali Amin Gandapur rebuts PTI's claim of straight firing by army on November 26 Ali Amin Gandapur rebuts PTI's claim of straight firing by army on November 26 CM KPK Ali Amin Gandapur admits that he plays on both sides of the wicket CM KPK Ali Amin Gandapur admits that he plays on both sides of the wicket Karachi: Case registered against police officer under PECA for maligning President Asif Zardari Karachi: Case registered against police officer under PECA for maligning President Asif Zardari Discover the world's most powerful passport, which country is on the top? Discover the world's most powerful passport, which country is on the top? Forbes released list of top 10 richest persons in the world in 2025 Forbes released list of top 10 richest persons in the world in 2025

Revolutionary step in medical science: 13 years old girl cured of cancer through gene editing



ماہرین کا جین ایڈیٹنگ کے ذریعے کینسر ختم کرنے کا دعویٰ

برطانوی ماہرین نے ایک 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کرکے کینسر کے کامیاب علاج کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

جس بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی گئی، وہ بچی کیموتھراپی اور بون میورو کے ٹرانسپلانٹ کے باوجود صحت یاب نہیں ہو پائے تھی، جس کے بعد سائنسدانوں نے آخری امید کے طور پر ان کے ڈی این اے کے چار کوڈز کو تبدیل کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کے مطابق برطانوی ماہرین نے بلڈ کینسر کی شکار 13 سالہ بچی کے جینیاتی کوڈ میں تبدیلی کی، جس کے بعد ان کا ایک اور بون میورو ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس کے بعد اب بچی میں کینسر کی علامات غائب ہوگئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گریٹ آرمنڈ اسٹریٹ ہسپتال کے ماہرین نے 13 سالہ بچی کے چار جینیاتی کوڈز ’ایڈنائن‘ (اے) ’سائٹوسین‘ (سی) ’گوانائن‘ (جی) اور ’تھائمین‘ (ٹی) کو بیس ایڈیٹنگ نامی نئے بائیولاجیکل انجنیئرنگ کے طریقے کے تحت تبدیل کیا۔

یہ طریقہ چند سال قبل ہی تخلیق کیا گیا تھا اور اس یہ طریقہ سائنسدانوں کو جینیاتی کوڈز کو انتہائی قریب سے دیکھ کر انہیں تبدیل کرنے یا ایک دوسرے سے ملانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

ماہرین نے مذکورہ طریقے کو استعمال کرتے ہوئے مریض بچی کے چار جینیاتی کوڈز کو تبدیل کیا، جس کے بعد بچی اگرچہ ابتدائی طور پر انتہائی کمزور ہوگئی، تاہم بون میورو ٹرانسپلانٹ اور تین ماہ کے علاج کے بعد وہ صحت یاب ہوگئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈاکٹرز کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران دو مرتبہ چیک اپ کیے جانے پر مریض بچی میں کینسر کی کوئی علامت نہیں دیکھی گئی اور اب وہ بلکل صحت مند ہے۔

برطانوی ماہرین نے بتایا کہ مذکورہ طریقہ علاج 6 سال قبل ہی تیار کیا گیا تھا اور تاحال یہ طریقہ عام نہیں ہو پایا اور 13 سالہ مریض بچی ان 10 افراد میں سے پہلی فرد ہیں، جنہیں اس طریقہ علاج کے لیے منتخب کیا جا چکا ہے۔

مذکورہ طریقہ علاج کو بہت پیچیدہ اور محنت طلب بتایا جا رہا ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس طریقہ علاج سے سال میں صرف ایک درجن مریض ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


Source



Comments...