Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Pakistan Air Force officer martyred while saving a woman in Islamabad, How it happened? Pakistan Air Force officer martyred while saving a woman in Islamabad, How it happened? Military vows all necessary measures to secure Pakistan's water share amid India tensions - Corps commander conference Military vows all necessary measures to secure Pakistan's water share amid India tensions - Corps commander conference Foreign Women Case: What is the purpose of discussing this incident on TV? Ikhtiar Wali debates with the anchor Foreign Women Case: What is the purpose of discussing this incident on TV? Ikhtiar Wali debates with the anchor CCTV footage of suspect involved in the murder of group captain Asim Tariq CCTV footage of suspect involved in the murder of group captain Asim Tariq Who is the BOSS in Lahore women assault case? Mansoor Ali Khan shared storyline of the incident Who is the BOSS in Lahore women assault case? Mansoor Ali Khan shared storyline of the incident Foreign Girls Assault Case: Listen what DIG Faisal Kamran said about question of his resignation? Foreign Girls Assault Case: Listen what DIG Faisal Kamran said about question of his resignation?

Ulema come to rescue the CAA employee who accused Christian lady of blasphemy in Karachi



گزشتہ روز کراچی ایئرپورٹ کے کارگو ایئر میں تعینات خاتون سیکورٹی انچارچ کو اپنے ہی محکمے کے ایک ملازم نے دھمکی دی کہ اگر وہ اس کی کار کو اندر آنے سے روکتی ہیں تو وہ اس پر توہینِ رسالت کا الزام لگا دے گا اور مولویوں کا بلا کر اسے قتل کروا دے گا۔ خوش قسمتی سے مسیحی خاتون آفیسر نے اسی وقت ویڈیو بنا لی جس میں ملازم کی ساری دھمکیاں ریکارڈ ہوگئیں۔ وہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی اور لوگوں کے سخت ردعمل کے بعد آصف زرداری نے نوٹس لیا اور مذکورہ ملازم کو معطل کردیا گیا اور انکوائری شروع کردی گئی۔

اس معاملے پر علامہ ضیاء اللہ کی قیادت میں علمائے کرام نے ایک اجلاس طلب کیا جس میں ثمینہ نامی مسیحی خاتون آفیسر اور سلیم نامی مذکورہ ملازم کو بلایا گیا۔ علمائے کرام نے مسیحی خاتون ثمینہ سے گزارش کی کہ وہ درگزر سے کام لیں اور سلیم کو معاف کردیں۔ علماء کرام کے کہنے پر ثمینہ نے سلیم کو معاف کردیا۔ علماء امن کونسل نے ثمینہ کے سلیم کو معاف کرنے پر چیئرمین سول ایوی ایشن کو خط لکھا اور معاملے کو رفع دفع کرنے کی گزارش کی۔

فواد چوہدری نے اس پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا "یہ جو مذہب کے بیوپاری ہیں، یہ سب سے بڑی بیماری ہیں"۔

احمد نورانی نے ٹویٹ کیا "لعنت ہے ایسے بے غیرت، غلیظ اور گھٹیا علما پر جو ایسی حرکتیں کر کے نبی رحمت ﷺ اور انکے مذہب کے بارے میں اقوام عالم میں غلط فہمیاں پیدا کرتے ہیں۔ اسلام کی نیک نامی اور مذہب مصطفٰے کو بچانے کیلیے ایسے ذلیل علما کا مکمل خاتمہ کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔"۔

ایک اور صارف ابن الحسن نے لکھا "ایک بہادر کرسچن خاتون کے خلاف بدمعاشوں کی حمایت میں علماء میدان میں آگئے۔ صلح تو بیچارہ نے کرنی ہی تھی"۔

ایک صارف عمران احسن مرزا نے لکھا "یہ بدمعاش علماء کہاں تھے جب آسیہ بی بی کو بےوجہ توہین کے جرم میں جیل رکھا ہوا تھا"۔

ایک صارف رومیصہ عمر نے لکھا "شرم کا مقام ہے۔ ان علما کو چاہیئے تھا اس ظالم انسان کو کڑی سزا دلواتے جو حقیقت میں توہین رسالت کر رہا تھا اس طرح کی دھمکی سے۔
منافقت کا اعلی ترین درجہ صدیوں سے ہمارے مذہبی علما نے حاصل کر رکھا ہے"۔







Comments...