Federal Shariat court terms transgender act against Islam
خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے، نہ ہی خود کو مرد یا عورت کہلوا سکتے ہیں: عدالت
وفاقی شرعی عدالت کے قائم مقام چیف جسٹس سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین نے خواجہ سراؤں کے حقوق سے متعلق ٹرانسجینڈر ایکٹ کےخلاف درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ سنایا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خواجہ سرا اپنی جنس تبدیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی خود کو مرد یا عورت کہلوا سکتے ہیں۔
وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈر ایکٹ کو سیکشن 2 اور 3 اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیا، عدالت نے کہا کہ ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کا سیکشن 7 بھی خلاف اسلام وشریعت ہے، جسمانی خدوخال اور خودساختہ شناخت پرکسی کو ٹرانسجینڈر قرار نہیں دیا جاسکتا۔
عدالت نے کہا کہ حکومت خواجہ سراؤں کو تمام حقوق دینے کی پابند ہے، اسلام خواجہ سراؤں کو تمام انسانی حقوق فراہم کرتا ہے۔
وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن ایکٹ کےخلاف دائردرخواستیں نمٹادیں۔
Source
Youtube
Umar Cheema's comments on Maulana Tariq Jameel's viral video
South Air's first ATR 72-500 aircraft arrives in Pakistan
US releases details on alleged UFOs and Aliens
Mayor Karachi Murtaza Wahab caught riding bike without helmet
US forces strike on Iran-flagged tankers trying to evade the Strait of Hormuz blockade
Russia rejects US Anti-Iran resolution presented in UN Security Council










