Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Iranian President receives grand welcome in Pakistan with JF-17 Thunder fly past Iranian President receives grand welcome in Pakistan with JF-17 Thunder fly past Exchange of interesting words between PM Shehbaz Sharif and Maulana Fazlur Rehman in National Assembly Exchange of interesting words between PM Shehbaz Sharif and Maulana Fazlur Rehman in National Assembly Iranian Rial Jumps After Historic US Peace Deal and Oil Sanctions Waiver Iranian Rial Jumps After Historic US Peace Deal and Oil Sanctions Waiver Islam & Science: Facts, Faith or Conflict? Journalist Shweta Jaya with Islamic Scholar Zakia Khan Islam & Science: Facts, Faith or Conflict? Journalist Shweta Jaya with Islamic Scholar Zakia Khan Khawateen Ki Na Zaiba Videos Bnany Wala Jali Aamal Giraftar Khawateen Ki Na Zaiba Videos Bnany Wala Jali Aamal Giraftar 8 dead, 39 hurt in Chicago weekend shootings 8 dead, 39 hurt in Chicago weekend shootings

Matiullah Jan's tweet over government's objection on Justice Mansoor Ali Shah


فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائلز پر سپریم کورٹ کی سماعت میں حکومت نے اچانک جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض اٹھا دیا جس پر جسٹس منصور علی شاہ بنچ سے الگ ہوگئے۔ مطیع اللہ جان نے اس پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

جسٹس منصور علی شاہ نے سات رکنی بنچ کے پہلے دن آغاز پر ہی اعلان کیا تھا کہ میں ایک درخواست گذار سابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) جواد ایس خواجہ کا قریبی رشتہ دار ہوں اور اگر کسی کو اعتراض ہے تو ابھی کر دے بعد میں اعتراض قبول نہیں کیا جائے گا، تاہم اسوقت اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ انھیں بنچ پر اعتراض نہیں جسکے بعد دو دن تک فوجی عدالتوں کیخلاف درخواستوں کی سماعت جاری رہی اور آج اچانک حکومت کی طرف سے جسٹس منصور پر اعتراض اٹھا دیا گیا، بظاہر حکومت time buy کر رہی ہے تاکہ اب منگل کو فیصلہ ناممکن ہو جائے، اور اس دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو بھی سمجھ آ جائے کہ جب کسی جج پر باقاعدہ اعتراض ہوتا ہے تو اس اعتراض پر کوئی اصول پسند جج یہ نہیں کہتا کہ اس اعتراض پر فیصلہ محفوظ کرتا ہوں، اور بنچ پر موجود باضمیر ججوں سے مشورہ کر کے بتاؤں گا۔ چیف جسٹس بندیال نے خود پر اور جسٹس منیب اور جسٹس اعجاز الاحسن پر آڈیو لیکس کمیشن کیس میں اُٹھائے گئے اعتراضات پر جسٹس منصور علی شاہ جیسا فوری ردِ عمل دینے کی بجائے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، ساس صاحبہ شاید اتنی قریبی رشتہ دار نہیں ہوتی جتنا قریبی رشتہ جسٹس منصور اور درخواست گذار سابق چیف جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ کا ہے۔ جسٹس منصور اور جسٹس بندیال میں فرق جان کر جیو۔





Comments...