Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Umar Cheema's comments on Maulana Tariq Jameel's viral video Umar Cheema's comments on Maulana Tariq Jameel's viral video South Air's first ATR 72-500 aircraft arrives in Pakistan South Air's first ATR 72-500 aircraft arrives in Pakistan US releases details on alleged UFOs and Aliens US releases details on alleged UFOs and Aliens Mayor Karachi Murtaza Wahab caught riding bike without helmet Mayor Karachi Murtaza Wahab caught riding bike without helmet Whenever a diplomatic solution is on the table, the US chooses military adventure - Abbas Araqchi Whenever a diplomatic solution is on the table, the US chooses military adventure - Abbas Araqchi US forces strike on Iran-flagged tankers trying to evade the Strait of Hormuz blockade US forces strike on Iran-flagged tankers trying to evade the Strait of Hormuz blockade

Amir Mateen's tweet on load shedding and high cost of electricity

Posted By: Saif, July 06, 2023 | 10:05:12

Amir Mateen's tweet on load shedding and high cost of electricity


عامر متین نے لوڈ شیڈنگ، بجلی کی بڑھتی قیمت اور آئی پی پیز کو پیمنٹ ریلیز ہونے پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا

لوگ 8 سے 14 گھنٹے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ رہے ہیں اور بجلی کا بل اتنا ہے کہ بغیر بجلی استعمال کیے چیخیں نکل گئیں ہیں۔ کیونکہ ہمارے پاس ڈالر نہیں ہیں کہ ہم فیول خرید سکیں۔ لوگوں کو گرمی میں تڑپنے دیں۔ چھوٹے بڑے کاروبار بند ہو جائیں۔ مارکیٹیں، شادی ہال بند کر دیں۔ مگر IPP سیٹھوں کو اک ہزار ارب جا رہا ہے بجلی نہ بنانے پر۔ کیا کمال ہی مملکت اسلامیہ کا۔ بجلی بنانے کے کارخانے بند ہیں کیونکہ ہم تیل نہیں خرید سکتے مگر سیٹھوں کے ساتھ معاہدہ یہ ہے کہ ان کو مال جاتا رہے گا capacity payment کے نام پر اگر وہ زرہ بھی بجلی نہ دیں۔ کس نے بنائے یہ معاہدے اور آج بھی ان کو پیسے کون دلوا رہا ہے۔ آپ بغیر بجلی کے اس لیے تڑپ رہے ہیں کیونکہ باہر سے تیل خریدنے کے لیے ڈالر نہی مگر منشا جیسے سیٹھوں کو بغیر بجلی بنائے کھربوں روپے دینے پڑتے ہیں۔ خواجہ آصف نے پچھلی حکومت میں آتی ہی بغیر آڈٹ کے ان کو 420 ارب دلوا دیے یہ دھوکہ دے کر کہ اس سے مسلہ حل ہو جائے گا۔ منشا نے خواجہ صاحب کے مسلے حل کر دئے مگر تب سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ بغیر بجلی بنانے کے ہم ان سیٹھوں کے کئ ہزار کھربوں کے مقروض ہیں۔ غالبا 2300 ارب۔ اور IMf کے معاہدے کے تحت ان کو پیسے دلوا کر اسحاق ڈار وکٹری کے نعرے مار رہا ہے۔ کوئ حیا، کوئ شرم۔ کس نے کیے یہ معاہدے کون ان کو نبھا رہا ہے۔ لوگ بھوک اور گرمی سے مر رہے ہیں اور یہ سیٹھ، سول ملٹری بابو اور کرپٹ سیاستدانوں کے گھٹ جوڑ سے ان کو بغیر بجلی بنائے کھربوں روپے دے رہی ہی۔ ابھی بھی 2300 ارب کے ہم ان کے مقروض ہیں۔ بجلی نشتہ قرض لازمی۔ واہ بھئ واہ۔ مرتے رہو اور تڑپتے رہو میرے بھائیو مگر آف نہ کرنا ورنہ۰۰۰





Comments...