Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Bhati gate incident: Husband reveals how police tortured him in police station Bhati gate incident: Husband reveals how police tortured him in police station Why police tortured the husband of deceased woman? Shehzad Iqbal asks DIG Operations Why police tortured the husband of deceased woman? Shehzad Iqbal asks DIG Operations ICC reacts to Pakistan's decision to boycott of World Cup match against India ICC reacts to Pakistan's decision to boycott of World Cup match against India Interesting questions by female student from CM KPK Suhail Afridi Interesting questions by female student from CM KPK Suhail Afridi Pakistan boycotts India's match, Indian media lashes out at BCCI Pakistan boycotts India's match, Indian media lashes out at BCCI Alleged audio leak of Sheikh Waqas Akram exposing poor planning of CM KP Alleged audio leak of Sheikh Waqas Akram exposing poor planning of CM KP

They tortured me in front of Muneeb Farooq - Sheikh Rasheed spills the beans



شیخ رشید نے عدالت پیشی کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے منیب فاروق کے سامنے مارا گیا جس پر منیب فاروق نے کہا ایسا نہ کریں شیخ صاحب کے ساتھ۔

شیخ رشید احمد فیض آباد دھرنا کیس کے سلسلہ میں آج سپریم کورٹ پیش ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا’ میرے ساتھ پریس کانفرنس کا طے ہوا تھا لیکن وہ انٹرویو نکلا۔ پھر مجھے ( اینکر) منیب فاروق کے سامنے مارا گیا۔ اس پر اس نے کہا’نہ کریں شیخ صاحب کے ساتھ‘۔

شیخ رشید احمد نے کہا’40دنوں میں میرا 35 کلو وزن کم ہوا ہے۔ وزن ورزش کرنے سے نہیں ٹینشن سے کم ہوتا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں پاکستان عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے کہا ’میں اس صحافی کو 10 لاکھ انعام دوں گا جو پتہ چلائے کہ مجھے کہاں رکھا گیا تھا‘۔

شیخ رشید احمد نے کہا ’ ایک دفعہ مجھ پہ تشدد کرنے لگے تھے لیکن میں کرین سے زیادہ وزنی تھا، پھر انہوں نے کہا کہ مر جائے گا‘۔ انہوں نے کہا 2 دفعہ مجھے دل کا مسئلہ ہو گیا تھا‘۔

انہوں نے بتایا’انہوں نے 3، 4 صفحے کا بیان بنایا ہوا تھا۔ 3،2 لائنیں میرے کہنے پر کاٹیں۔ میں نے کہا کہ یہ بہت پرسنل ہے۔ پھر وہ صفحے میں ساتھ لے گیا اور پانی کے ساتھ نگل گیا‘۔

شیخ رشید احمد نے بتایا ’میں نے ساری زندگی فوج کے ساتھ کام کیا ہے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرے ساتھ ایسا ہو گا۔ بہرحال انہوں نے تشدد نہیں کیا۔ 35 دن بغیر سگار کے رہا۔ انہیں لگا شاید ایسا کرنے سے یہ ٹوٹ جائے گا‘۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا چلہ تو پورا ہوگیا مگر اس کے اثرات ابھی تک ہیں۔

ایک صحافی نے سوال کہ شیخ صاحب! خان کے ساتھ آج بھی کھڑے ہیں یا آپ نے بھی ہتھیار ڈال دیےہیں؟ جس پر شیخ رشید بولے؛ اللہ کے فضل و کرم سے زندگی میں دوستی اور دشمنی دونوں ہی قبر کی دیوار تک نبھائی ہیں۔





Advertisement





Popular Posts Follow Us on Social Media

Join Whatsapp Channel Follow Us on Twitter Follow Us on Instagram Follow Us on Facebook


Comments...