Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Mansoor Ali Khan's special podcast with Mohammad Malick on Pakistan's political issues Mansoor Ali Khan's special podcast with Mohammad Malick on Pakistan's political issues Mohsin Naqvi reacts to viral video of IG Islamabad & CDA Chairman sitting in a 'Baggi' Mohsin Naqvi reacts to viral video of IG Islamabad & CDA Chairman sitting in a 'Baggi' Former MPA also fell victim to AI, got married without seeing the woman's real appearance Former MPA also fell victim to AI, got married without seeing the woman's real appearance Wagah Border Flag-Lowering Ceremony Marks Independence Day Celebrations - 14th August 2026 Wagah Border Flag-Lowering Ceremony Marks Independence Day Celebrations - 14th August 2026 Maulana Fazal Ur Rehman's stance on new provinces - Details by Talat Hussain Maulana Fazal Ur Rehman's stance on new provinces - Details by Talat Hussain There are no 'Cockroaches' and 'Gen-Z' in Pakistan - Governor Sindh to reporter There are no 'Cockroaches' and 'Gen-Z' in Pakistan - Governor Sindh to reporter



چین میں سائنسدانوں نے انسانی پیشاب کی مدد سے دانت اگانے کا تجربہ کیا ہے۔
سائنسدانوں کے ایک تجربے کے نتائج سیل ری جنیریشن جریدے میں شائع ہوئے ہیں جس کے مطابق پیشاب کو سٹیم سیل کے ذریعے کے طور پر استعمال کر کے دانت اگایا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں کی اس ٹیم کو امید ہے کہ اس طریقے سے جھڑنے والے دانت کی جگہ نیا دانت نکل آئے گا۔
سٹیم سیل کے حوالے سے تحقیق کرنے والے دیگر محققین نے خبردار کیا ہے کہ اس میں کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دنیا بھر میں سائنسدان ایسا اعلاج دریافت کرنے کی کوشش میں ہیں جس کی مدد سے بڑھاپے میں یا صفائی ستھرائی کا خیال نہ رکھنے پر دانت جھڑنے پر اس کی جگہ نیا دانت اگایا جا سکے۔
سائنسدانوں میں سٹیم سیل پر تحقیق اس وقت خاصی مقبول ہے جس میں سٹیم سیل یا ماسٹر سیل کی کسی بھی قسم کے ٹشو میں افزائش کی جا سکتی ہے۔
چین کے گوانگژو ادارہ برائے بائیو میڈیسن اینڈ ہیلتھ کی ایک ٹیم نے اپنے تجربے کی شروعات پیشاب سے کی ہے۔
پشیاب سے حاصل کردہ سیلز کی لیبارٹری میں افزائش کی گئی اور اس کے بعد انہیں سٹیم سیلز بننے دیا گیا۔
بعد میں ان سیلز کو چوہے سے حاصل کردہ دیگر مواد سے ملا کر جانوروں میں داخل کیا گیا۔
محققین کے مطابق تقریباً تین ہفتوں کے بعد سیلز کے اس مجموعے نے ایک دانت بنانا شروع کر دیا تاہم یہ قدرتی دانت جتنا سخت نہیں تھا۔
سائنسدانوں کے مطابق ابھی فوری طور پر یہ طریقہ علاج دستیاب نہیں ہو گا لیکن اس بارے میں مزید تحقیق کے بعد کلینکل تھیراپی کے ذریعے ایک مکمل دانت اگانے کا خواب پورا ہو سکے گا۔
یونیورسٹی کالج لندن میں سٹیم سیل کے سائنسدان پروفیسر کرس میسن کے مطابق پیشاب سے شروعات ایک برا آغاز ہے۔
’ممکن ہے کہ یہ سب سے بدترین ذریعہ ہو، پہلے مرحلے میں کچھ ہی سیلز ہوتے ہیں اور ان کو سٹیم سیلز میں تبدیل کرنے کی خصوصیت بہت کم ہوتی ہے اور آپ اسے اس طریقے سے نہیں کر سکتے ہیں۔‘
پروفیسر کرس میسن نے اس کے ساتھ خبردار کیا کہ دیگر ذرائع کے برعکس اس ذریعے سے سیلز حاصل کرنے کی صورت میں بیکٹریا جیسے مضرصحت عوامل کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔


Source: BBC News



Comments...