Copyright Policy Privacy Policy Contact Us Instagram Facebook
Top Rated Posts ....
Murad Saeed's first exclusive interview after a very long time Murad Saeed's first exclusive interview after a very long time Court takes notice of alleged cocaine dealer Anmol’s appearance in court without handcuffs Court takes notice of alleged cocaine dealer Anmol’s appearance in court without handcuffs Exclusive details of Iran's reply to US proposal Exclusive details of Iran's reply to US proposal CM Maryam Nawaz joins Maarka-e-Haq ceremony at Wagah Border CM Maryam Nawaz joins Maarka-e-Haq ceremony at Wagah Border Field Marshal Asim Munir's blasting speech at Marka-e-Haq Anniversary Field Marshal Asim Munir's blasting speech at Marka-e-Haq Anniversary 'I thought that was a drone' - Trump cracks joke after hearing sound during speech 'I thought that was a drone' - Trump cracks joke after hearing sound during speech

FIA in action against viral pictures of Maryam Nawaz on social media

Posted By: Abbas, January 10, 2025 | 11:07:22

FIA in action against viral pictures of Maryam Nawaz on social media


ایف آئی اے کا مریم نواز کی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایڈٹ کر کے وائرل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی تصاویر کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایڈٹ کر کے سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی وفاقی تحقیقات ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق اس مہم کا حصہ بننے والے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی فہرست تیار کر لی گئی ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان اکاؤنٹس کی مدد سے مصنوعی ذہانت سے تیارہ کردہ تصاویر کے ذریعے مریم نواز اور متحدہ عرب امارات کے صدر کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر اعلیٰ مریم نواز پر اس وقت تنقید ہوئی جب انھوں نے ایک سرکاری دورے کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید سے ہاتھ ملایا۔

مریم نواز کے معاون خصوصی نے اُن کی یو اے ای کے صدر کے ساتھ تصویر اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی تھی جس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ایسی مہم شروع کی گئی جس میں مذکورہ تصویر کو کچھ صارفین نے قابل اعتراض ایڈیٹنگ کر کے وائرل کیا تھا۔

ایف آئی اے کے مطابق اس کیس کی تفتیش کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو نشاندہی کریں گی کہ یہ مواد کہاں سے شروع ہوا۔


Source



Comments...