Waqt Badaltay dair nhn lagti - Hamid Mir's advice to PMLN in his column
زوال کی نشانیاں ۔۔ حامد میر
پاکستان کے سیاسی منظر پر آجکل جو واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ باعث تشویش ہیں۔ حکومت اور اسکے اداروں کا سارا زور میڈیا مینجمنٹ پر ہے۔ صاحبانِ اختیار کا خیال ہے کہ اگر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کو قابو کر لیا جائے تو ملکی حالات قابو میں آ جائینگے۔ سوشل میڈیا پر حکومت کے مخالفین کی درگت بنانے کیلئے سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال ہورہا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کئی اینکرز کو ٹی وی اسکرین سے غائب کر دیا گیا اور مزید اینکرز غائب ہونیوالے ہیں لیکن کیا اس میڈیا مینجمنٹ سے پاکستان کے حالات میں کوئی بہتری نظر آئی ہے؟ کسی صحافی کو نوکری سے نکالنا یا کسی ٹی وی اینکر کو اسکرین سے غائب کرنا بہت آسان ہو چکا ہے۔ کسی ناپسندیدہ وکیل یا انسانی حقوق کے کارکن کو ملک دشمن قرار دیکر جیل میں ٹھونسنا بھی اس حکومت کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ لیکن کیا ان پابندیوں اور گرفتاریوں سے پاکستان میں کوئی سیاسی استحکام پیدا ہوا؟ کیا دہشت گردی ختم ہو گئی؟ کیا غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کا رخ کر لیا؟
کل میں مسلم لیگ (ن) کے کچھ وزراء کی مولانا فضل الرحمٰن کیخلاف پریس کانفرنسیں اور بیانات دیکھ رہا تھا تو مجھے اکتوبر 2019 میں شہباز شریف کی طرف سے کی جانیوالی ایک تقریر یاد آنے لگی۔ یہ تقریر شہباز شریف نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ مولانا کے پہلو میں کھڑے ہو کر شہباز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان کےریاستی اداروں نے جتنا تعاون عمران خان کی حکومت کیساتھ کیا ہے اگر اسکا دسواں حصہ ہمیں مل جائے تو ہم صرف چھ ماہ میں پاکستان کی تقدیر بدل دینگے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے 27 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ شروع کیا تھا اور جب وہ ایک بڑا جلوس لیکر اسلام آباد میں داخل ہو گئے تو عمران خان کی حکومت اندر باہر سے ہل کر رہ گئی تھی۔ اسوقت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سمیت پیپلز پارٹی کے کئی رہنمابھی جیلوں میں تھے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو موقع مل گیا کہ مولانا کے کندھوں پر چڑھ کر عمران خان کو مکّے دکھائیں۔ شہباز شریف نے اپنی تقریر میں خان صاحب کو خوب مُکّے دکھائے۔ صرف چند دن کے اندر اندر اس جلسے کا نتیجہ سامنے آ گیا۔نومبر 2019ء کے وسط میں نواز شریف جیل سے نکلے اور ہوائی جہاز میں بیٹھ کر سیدھے لندن پہنچ گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ نواز شریف بہت بیمار ہیں اور علاج کے بعد تین ہفتے میں واپس آ جائینگے۔ ہمیں غلط بتایا گیا تھا۔ نواز شریف تین ہفتے میں واپس نہیں آئے بلکہ لندن پہنچنے کے تین مہینے کے اندر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف کیساتھ مل کر پارلیمنٹ میں ایک قانون منظور کروایا جس کے تحت اسوقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع منظور کر دی گئی۔ پھر ستمبر 2020ء میں بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کا اہتمام کیا اور اس اے پی سی میں ایک نیا اپوزیشن الائنس معرض وجود میں آیا جس کا نام پی ڈی ایم رکھا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کی تجویز پر مولانا فضل الرحمٰن کوپی ڈی ایم کا سربراہ بنا دیا گیا۔
پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ اکتوبر 2020ء میں گوجرانوالہ میں ہوا۔ جلسہ گاہ کے باتیں جانب میڈیا کیلئے پریس گیلری بنائی گئی تھی جہاں میں بھی موجود تھا۔ اس جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے جنرل باجوہ اور فوج کیخلاف جن الفاظ میں نعرے بازی کی وہ آج بھی ناقابل بیان ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں پی ڈی ایم کے جلسوں نے زور پکڑا تو جنرل باجوہ نے عمران خان کو غیر مقبول قرار دینا شروع کر دیا اور عمران خان نے جنرل باجوہ سے جان چھڑانے کا راستہ تلاش کرنا شروع کیا۔ ان دونوں میں غلط فہمیوں کا فائدہ اٹھا کر جنرل فیض حمید آرمی چیف بننے کے خواب دیکھنے لگے۔ عمران خان نے جنرل فیض کے ذریعے حکومت چلانی شروع کر دی۔ ایک دفعہ پھر اپوزیشن کے کئی اہم رہنما جیل میں ڈال دیئے گئے۔ میڈیا پر پابندیاں بڑھا دی گئیں۔ 2021ءمیں مجھ پر بھی طویل عرصے کیلئے پابندی لگا دی گئی۔ لیکن ان پابندیوں اور گرفتاریوں کا خان صاحب کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔
مارچ 2022ء میں عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد آ گئی اور چند دن کے اندر اندر شہباز شریف وزیراعظم بن گئے۔ انکی کابینہ میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی شامل تھی۔ نومبر 2022ء میں جنرل عاصم منیر آرمی چیف بن گئے اور اسکے بعد ریاستی اداروں نے شہباز شریف کے ساتھ دس فیصد نہیں بلکہ سو فیصد تعاون شروع کر دیا۔ پھر اسی حکومت نے نواز شریف کی پاکستان واپسی اور ان پر مقدمات ختم کرنے کا راستہ ہموار کیا۔ فروری 2024ء کے الیکشن کے بعد شہباز شریف دوبارہ وزیراعظم بن گئے۔ ریاستی اداروں کا سو فیصد انکے ساتھ تعاون جاری رہا۔ کیا شہباز شریف صرف چھ ماہ میں پاکستان کی تقدیر بدلنے کا دعویٰ پورا کر سکے؟ اس حقیقت میں شک نہیں کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچا لیا گیا لیکن ملک سے سیاسی عدم استحکام ختم کیوں نہیں ہو سکا؟حکومت کیلئے سب سے بڑا خطرہ عمران خان تھے۔ وہ تو طویل عرصہ سے جیل میں ہیں۔ تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے ابھی تک کوئی دباؤ بھی نہیں ڈال سکی۔ پی ٹی ایم پر پابندی لگا دی گئی۔ ٹی ایل پی پر بھی پابندی لگا دی گئی۔ ماہ رنگ بلوچ اور انکی وکیل ایمان مزاری بھی جیل میں ہے ۔ پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء کی منظوری کے بعدمیڈیا پر حکومت کا کنٹرول مزید مضبوط ہو چکا ہے۔ لیکن اس کنٹرول کے باوجود خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امن کی صورتحال پر کنٹرول کیوں قائم نہ ہو سکا؟ آزاد کشمیر میں آجکل جو کچھ ہو رہا ہے اسکا ذمہ دار کون ہے؟ کیا اسکا تعلق حکومت کی گورننس سے نہیں؟ 2021 میں عمران خان یہ سمجھتے تھے کہ انہیں حکومت سے کوئی نہیں نکال سکتا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس انکا کوئی متبادل نہیں۔ آج پانچ سال بعد خان صاحب جیل میں ہیں اور انہیں حکومت میں لانے والے کہیں نظر نہیں آتے۔ آج شائد شہباز شریف بھی یہی سمجھتے ہیں کہ انہیں اقتدار سے نکالنا بہت مشکل ہے کیونکہ انکا کوئی متبادل نہیں لیکن وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ وہ مولانا فضل الرحمٰن جن کے کندھوں پر چڑھ کر شہباز شریف مُکّے لہرایا کرتے تھے آج شہباز شریف کے ساتھی انہی مولانا کی ایسی تیسی کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے جس بیان کی مذمت کی جا رہی ہے وہ بیان مولانا نہ دیتے تو بہتر تھا لیکن کل کو مسلم لیگ (ن) پر برا وقت آیا تو شہباز شریف کو انہی مولانا فضل الرحمٰن کے کندھے دوبارہ یاد آئیں گے۔ مسلم لیگ (ن) مت بھولے کہ وفاق میں حکمران ہوتے ہوئے بھی اسے گلگت بلتستان میں اکثریت نہیں ملی۔ اگر آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ (ن) کیساتھ وہی کچھ ہوا جو گلگت بلتستان میں ہوا تو پھر اسکے سیاسی زوال کو بریک لگانا مشکل ہو گا۔ وہ ایسا سیاسی بوجھ تو نہیں بنتی جا رہی جسے اتار پھینکنا ضروری ہو جائیگا؟ مسلم لیگ ن کے زوال کی ایک بڑی وجہ پارٹی کی اندرونی لڑائیاں بنیں گی جو اب سامنے آنیوالی ہیں۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے معاملات بھی کافی خراب ہیں جو دونوں کیلئے نقصان کا باعث بنیں گے۔ پھر بھی کسی کو کچھ سمجھ نہ آئے تو فیصل واؤڈا کی حکومت پر تنقیدکا ایک تنقیدی جائزہ کافی ہے۔ نجانے انہیں آج کے حکمران کل کو کسی اپوزیشن الائنس کے کنٹینر یا کسی جیل میں اکٹھے کیوں نظر آ رہے ہیں؟
Source
Trump says he won't rule out sending ground troops to Iran - Fox News
India's largest nuclear power plant's data leaked on Dark Web
Government changes policy regarding Pakistanis returning home on NICOP
PM Shehbaz Sharif's tweet on Houthis attack against Saudi Arabia
A young doctor killed during robbery in Karachi
Maulana Fazal ur Rehman's statement sparks unified political response











