
تہران: ایرانی پارلیمنٹ نے بچوں کے حقوق کے تحفظ کا ایک بل پاس کیا ہے، جس میں شامل ایک شق کے تحت کوئی بھی شخص 13 سال کی عمر میں اپنی لے پالک بیٹی کے ساتھ شادی کرسکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کا یہ بل گزشتہ ماہ پیش کیا گیا تھا۔ بل کے مطابق کوئی بھی شخص اپنی لے پالک بیٹی سے شادی کرسکتا ہے اگر عدالت یہ حکم دے کہ ایسا کرنا اس بچی کے مفاد میں ہے۔ ایران کے مذہبی علماء اور مذہبی فقہ کے ماہرین پر مشتمل سرپرست کونسل کے سامنے تمام پارلیمانی بلز آئین اور اسلامی قوانین کا حصہ بنانے سے قبل پیش کیے جاتے ہیں، تاہم اس کونسل نے ابھی تک اس قانون سازی پر اپنا فیصلہ نہیں دیا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایرانی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والے اس بل کو خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ ایران میں انصاف فراہم کرنے والی ایک برطانوی تنظیم کے رکن شادی صدر نے برطانوی اخبار کو بتایا ہے کہ انہیں خوف ہے کہ ایرانی سرپرست کونسل اس بل کی منظوری دے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ لے پالک بچوں کے ساتھ شادی کرنا ایران کی ثقافت کا حصہ نہیں ہے۔ یہ بل بچوں کے ساتھ جنسی تعلق کو قانون کا حصہ بنا کر ہمارے بچوں کی معصومیت کو خطرے میں ڈال دے گا، اور یہ جرم ہمارے ملک کی ثقافت کا حصہ بن جائے گا۔
Source
New York Times exposes India’s dominance in cricket
Former Army Chief General (R) Qamar Javed Bajwa Seriously Injured After Falling in Bathroom at Home
Aleema Khan’s views on Salman Safdar's meeting with Imran Khan in jail
Court indicts Ducky Bhai, wife Aroob Jatoi in gambling app case
Junaid Akbar separates himself from PTI's parliamentary party
PCB has won Bangladesh too in a diplomatic way - Indian journalist Vikrant Gupta










